ریلوے کی نجکاری کا مقصد حکومت کو بتانا چاہئے: کانگریس

حکومت نے 17 مارچ کو پارلیمنٹ میں بالکل واضح طور پر کہا تھا کہ ریلوے کی نجکاری نہیں کی جائے گی، اس کے باوجود وہ اس کے نجکاری کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو بتانا چاہئے کہ کس بنیاد پر یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے حکومت پر ریلوے کی نجکاری نہ کرنے کے اپنے وعدے سے مکرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 109 ٹرینوں کا آپریشن نجی ہاتھوں میں دینے کا عمل شروع کردیا ہے اور اسے بتانا چاہئے کس بنیاد پر یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔

کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے سب سے منافع بخش محکمہ ہے اور ملک کے غریب عوام کے سفر کی بنیاد ہے۔ ہندوستانی ریلوے دنیا کا بڑا اور ایشیا کا دوسرا نمبر کا نیٹ ورک ہے جس میں یومیہ تقریبا ڈھائی کروڑ افراد سفر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے دنیا میں روزگار فراہم کرنے والے اداروں میں ساتواں مقام ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت اس بڑے نیٹ ورک کی نجکاری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ وہ کس بنیاد پر اس کی نجکاری کر رہی ہے۔ اگر ریلوے اپنی خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہتا اور روزگار میں ناکام رہتا نیز بڑے خسارے میں چل رہا ہوتا تو بھی سمجھ آتی، لیکن یہاں کوئی بے ضابطگی نہیں، پھر بھی حکومت نجکاری پر بضد ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت نے 17 مارچ کو پارلیمنٹ میں بالکل واضح طور پر کہا تھا کہ ریلوے کی نجکاری نہیں کی جائے گی، اس کے باوجود وہ اس کے نجکاری کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ یہ نجکاری نہیں ہے لیکن یہ نجکاری کا عمل ہے اور حکومت صرف الفاظ کے جال میں پھنسا رہی ہے۔

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*