چینی کمپنیوں کا معاہدہ منسوخ کرنے کے سلسلے میں عرضی دائر

عرضی میں اڈانی گروپ، مرکزی حکومت، گجرات حکومت اور مہاراشٹر حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

نئی دہلی: چینی کمپنیوں اور ہندوستان کے مختلف ریاستوں اور خاص تجارتی گھرانے – اڈانی گروپ – کے ساتھ ہوئے کاروباری معاہدے منسوخ کرنے سے متعلق عرضی بدھ کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔

عرضی گزار وکیل سپریا پنڈت نے دونوں ملکوں کے درمیان جاری تجارت پالیسی کے انکشاف کی ہدایت دینے کا بھی مطالبہ عدالت سے کیا ہے۔ محترمہ پنڈت جموں و کشمیر کی رہنے والی ہیں۔

عرضی میں اڈانی گروپ، مرکزی حکومت، گجرات حکومت اور مہاراشٹر حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

اڈانی گروپ نے ایک ہندوستانی بندرگاہ کی تعمیر میں 300 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لئے چین کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئےتھے۔ اس میں گجرات کے کرنسی خصوصی اقتصادی زون میں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کی تجویز ہے۔ یہ معاہدہ چین کی بڑی کمپنی ایسٹ ہوپ گروپ کے ساتھ ہوئی ہے۔

عرضی گزار کا کہنا ہے کہ کچھ ریاستی حکومت کو چین کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے کی منظوری دینے سے ملک میں غلط پیغام جائے گا اور ہندوستانیوں کے جذبات کے ساتھ مذاق ہوگا۔

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*