اراضی ملکیت اسکیم سے بڑھے گی دیسی ڈرون صنعت

ملک میں اب ڈرون سے ہوگی اراضی کی نقشہ سازی، جس سے دیسی ڈرون صنعت ترقی کرے گی۔ محکمہ سروے زمین کی نقشہ سازی کرکے مکمل ڈیٹا ریاستی حکومتوں کے حوالے کرے گا۔ اسی ڈیٹا کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مقامی حکومتیں اراضی کی ملکیت کا فیصلہ کریں گی۔

نئی دہلی: گاؤں دیہات میں آبادی والے علاقوں کی ڈرون کے ذریعہ نقشہ سازی کرکے زمین کے مالکانہ حق کا فیصلہ کرنے کے مرکزی حکومت کے ملکیت منصوبے سے ملک میں ڈرون مینوفیکچرنگ اور ڈرون آپریٹروں کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ یہ طویل عرصے تک دیسی ڈرون صنعت کو فروغ دینے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے رواں سال اپریل میں یوم پنچایتی راج کے موقع پر ملکیت منصوبہ کو شروع کیا تھا۔ اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری ہندوستان کے سروے محکمہ کو دی گئی تھی، جو زمین کی نقشہ سازی کرے گا اور مکمل ڈیٹا ریاستی حکومتوں کے حوالے کرے گا۔ اسی ڈیٹا کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مقامی حکومتیں اراضی کی ملکیت کا فیصلہ کریں گی۔

انڈسٹری فیڈریشن ایف آئی سی سی آئی کے ذریعہ آج منعقدہ ایک ویبنار میں ہندوستان کے رجسٹرارجنرل گیریش کمار نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت ملک کی چھ لاکھ سے زیادہ دیہاتوں کے آبادی والے علاقوں کی مکمل نقشہ سازی کی جانی ہے۔ اس کے لئے بڑی تعداد میں ڈرون کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ڈرون سازی صنعت اب بھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ کوئی بھی اسٹارٹ- اپ کمپنی اتنی بڑی تعداد میں ڈرون سپلائی نہیں کرسکے گی۔ اس لئے بڑے آرڈر کے لئے ٹینڈر جاری کرنے کے بجائے اسٹارٹ -اپ کو موقع دینے کے لئے چھوٹے آرڈر کے ٹینڈر جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس میں معیار اور تحفظ سے کوئي سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت نقشہ سازی کا کام تقریبا پانچ برس تک چلنے کی توقع ہے۔ اس دوران ڈرون پائلٹوں کی ایک بڑی تعداد کی بھی ضرورت ہوگی۔ نہ صرف آپریٹروں کو ڈرون چلانے کا علم ہونا چاہئے بلکہ انہیں اس منصوبے کی ضرورت کے مطابق لینڈ میپنگ کا بنیادی علم بھی ہونا چاہئے۔ ملک میں ایسا کوئی انسٹی ٹیوٹ نہیں ہے جہاں ایسی تربیت دی جارہی ہو۔ اس کے پیش نظر سروے محکمہ نے اپنے طور پر تربیتی کورس تیار کرنے اور تربیت کا فیصلہ کیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائر) گریش کمار نے بتایا کہ اس اسکیم کا آغاز مہاراشٹر میں تجربے کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کچھ دوسری ریاستوں میں بھی اس کا تجربہ کیا جاچکا ہے۔ اس نقشہ سازی میں غلطی کا امکان 10 سینٹی میٹر سے کم ہوگا۔ نیز کسی پلاٹ کے طول وعرض کو نشان زد کرنے کے لئے ڈرون میں جی پی ایس بھی ہوگا اور جہاں دو افراد کی زمین کے درمیان ایک پختہ دیوار ہے، اس کی ملکیت کا فیصلہ صرف ویڈیو گرافی کے ذریعہ ہو جائے گا۔ اور جہاں دو یا زیادہ خاندانوں کی کھلی اراضی ملتی ہیں وہاں ڈرون کی نقشہ سازی چونے سے زمین پر لکیر کھینچنے کے بعد کی جائے گی۔

وزارت سول ایوی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری عنبر دوبے نے کہا کہ ملک میں ڈرون کے استعمال کے بے پناہ امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں ٹڈیوں سے نمٹنے کے لئے ریاستی حکومت نے ڈرون سے کیمیکل چھڑکنے کی اجازت طلب کی تھی۔ اسے ایک دن سے بھی کم وقت میں شہری ہوا بازی کی وزارت نے منظور کرلیا۔

مسٹر دوبے نے کہا کہ نقشہ سازی کے علاوہ زراعت، صحت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، امن و امان برقرار رکھنے اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں ڈرون کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکومت آنے والے وقت میں پائلٹ کی حد بصارت سے آگے ڈرون اڑانے اور رات کو ڈرون اڑانے کی اجازت دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔

 

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*