فلمی دنیا کی ظلمتوں کی عکاس ہے سشانت سنگھ کی خود کشی – جیسے چراغ تلے اندھیرا

فلمی دنیا کی ظلمتوں کی عکاس ہے سشانت سنگھ کی خود کشی - جیسے چراغ تلے اندھیرا
فلمی دنیا کی ظلمتوں کی عکاس ہے سشانت سنگھ کی خود کشی - جیسے چراغ تلے اندھیرا

فلمی دنیا میں قدم رکھنے والا آدمی آگے کنواں پیچھے کھائی والے مرحلے میں ہوتا ہے، وہ جانے انجانے میں اپنے حلق میں ایک ایسی ہڈی ڈال لیتا ہے، جو نہ نگلی جاتی ہے نہ اگلی جاتی ہے۔ ان کے لئے دوبارہ عام سی زندگی شروع کرنا دشوار ہوتا ہے۔ وینا ملک اور زایرہ وسیم جیسے کچھ خوش قسمت لوگ، خود کو اس طلسماتی دنیا کی سحر سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں

تحریر: انصار احمد مصباحی

اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں بالی ووڈ میں سر گرم رہوں، تو میری فلمیں دیکھیے؛ ورنہ میں بالی ووڈ سے باہر پھینک دیا جاؤں گا۔ سشانت سنگھ راجپوت

راجپوت سے پہلے ایک اور شخص نے، گمنام گلیوں سے بالی ووڈ کے شہر کا رخ کیا تھا، دنیا نے اس کے سر پر بالی ووڈ کے ”کنگ“ کا تاج رکھا، سشانت سنگھ راجپوت نے بھی انجیئرنگ کو درمیان میں چھوڑ کر یہی راستہ چنا، لیکن تب تک ہوائیں رخ بدل چکی تھیں، اسٹار سن اور ”بڑے ناموں“ کی ایسی بالا دستی قائم ہو گئی تھی کہ سشانت سنگھ فلمستان میں پر تولتے تولتے عمر کی 34 ویں پڑاو میں پہنچ گیا، جہاں اسے اپنے ہی ہاتھوں سے، اپنے آگے کے سفر پر فل اسٹاپ لگانا پڑا۔

میڈیا کی سب سے بڑی دل چسپی ”بالی ووڈ انڈسٹری“ در اصل دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے: ایک غالب طبقہ دوسرا مغلوب۔ آپ چاہیں تو ظالم اور مظلوم کے مرادف الفاظ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ دوہری حیرت کی بات یہ ہے کہ سرکار اور اس کی باندی میڈیا بھی پہلے طبقے ہی پر مہربان ہے۔

سشانت سنگھ کی اداکاری

یہ ساری چیزیں یہ سمجھانے کے لئے کافی ہیں کہ سشانت سنگھ راجپوت کی اداکاری لا جواب تھی۔ میں نے اس کی با ضابطہ کوئی فلم نہیں دیکھی؛ لیکن لوگ بتاتے ہیں کہ اس کی ادا کاری ”Highest Paid“ اداکاروں میں شامل افراد کے ٹکر کی تھی، بالی ووڈ میں اس طرح کے اداکار کی انٹری، تانا شاہوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی۔ اس کے خلاف ایک محاذ شروع کر دیا گیا، یہ محاذ اور اسٹار سن کا غلغلہ، جاگیر دارانہ نظام اور ڈائرکٹروں کی نظر اندازی یہ ساری چیزیں اسے اندر سے تباہ کرتی چلی گئیں۔

لگاتار سات ایسی فلمیں کینسل ہوئیں، جو بعد میں باکس آفس پر کمال کی ہٹ ثابت ہوئیں، سوچیے! من پر کیا بیتے گا۔ شیکھر کپور کہتے ہیں:

وہ میرے کندھے پر سر رکھ کر رویا کرتا تھا، کاش میں کچھ سمجھ پاتا“۔

ہر ہفتے کچھ نہ کچھ ٹویٹ کرنے والا اداکار پچھلے چھے مہینے سے کوئی سر گرمی نہیں دکھائی تھی، دنیا نے اس کا ہنستا ہوا مکھڑا 26/ اکتوبر کو دیکھا تھا، جب اس نے مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ کے اس قول کو نکل کر کے اپنی تصویر شیئر کی تھی:

سایے کی طرح، میں ہوں بھی، نہیں بھی ہوں“۔ (مولانا رومی)

اس کی پرو فائل فوٹو بھی در پردہ بہت سی تہیں کھولتی نظر آتی ہے، شرٹ پر جلی حرفوں میں Error لکھا ہے۔ یہ ساری چیزیں اس کی گھٹن، بے چینی اور درد دل سمجنے کے لئے کافی تھیں؛ لیکن بالی ووڈ کی بے رحم دنیا صرف روشنی دیکھتی ہے، اس کا سایہ نہیں، اگتا سورج دیکھتی ہے، اس کا زوال نہیں۔

سشانت کی پراسرار موت

سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے دل براداشتہ ہو کر، بہار کے نالندہ ضلع کا رہنے والے ایک لڑکے نے پھانسی لگا کر خود کشی کر لیا، وہ نویں کلاس کا طالب علم تھا، 14 جون کے بعد سے ایک لڑکا مجھے بار بار فون کر رہا ہے اور ہر بار سشانت سنگھ کے تعلق سے ہی پوچھتا ہے، اس کے جزا سزا اور حشر و نشر کے بارے میں سوال کرتا ہے، دوران کلام سسکیاں لینا شروع کر دیتا ہے، بہار کے مظفر پور میں ایک فین نے بالی ووڈ کے کئی مشہور و معروف ستاروں پر کیس درج کر دیا ہے۔

اس ”بڑے پردے“ (بالی ووڈ) کے پیچھے در اصل کئی پردے پڑے ہیں، اس کی کئی تہیں اور پرتیں ہیں۔ یہاں بڑی بڑی حقیقتیں افسانہ بن کر راز کے سینوں میں ہمیشہ کے لئے دفن ہو جاتیں ہیں؛ یہاں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور چڑھتے سورج کو پوجنے کا عام رواج ہے؛ یہاں صرف لیپا پوتی والا چہرہ دیکھا جاتا ہے، اصلی چہرہ کوئی نہیں دیکھتا۔ سشانت سنگھ راجپوت سے پانچ ماہ قبل اسی کے ایک ہم نام اداکار نے یہ کہتے ہوئے مشہور سیریل کو ڈھوکر مار دی تھی کہ :

میں ٹیلینٹ بیچتا ہوں، ضمیر نہیں“۔

فلمی دنیا میں قدم رکھنے والا آدمی آگے کنواں پیچھے کھائی والے مرحلے میں ہوتا ہے، وہ جانے انجانے میں اپنے حلق میں ایک ایسی ہڈی ڈال لیتا ہے، جو نہ نگلی جاتی ہے نہ اگلی جاتی ہے۔ ان کے لئے دوبارہ عام سی زندگی شروع کرنا دشوار ہوتا ہے، ان کے پاس دوسرا راستہ یہ ہوتا کہ وہ سپر اسٹار بن جائے۔ اس راہ میں حسد، جلن، اسٹار سن، چیقلش، ضمیر فروشی جیسی رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں، آگے چل کر ان لوگوں سے بھی مقابلہ آرائی کی نوبت آتی ہے، جن کے ہنر سے زیادہ ان کی شہرت بولتی ہے۔

پھر شروع ہوتا ہے کش مکش کا کھیل۔ محترمہ Arshiya Anjum نے اپنے مضمون میں ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آخرت پر ایمان رکھنے والا تو سب کچھ جھیل لیتا ہے؛ لیکن جن کے پاس آخرت کا کوئی تصور ہی نہ ہو وہ انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے۔ جی ہاں! جزا سزا کا ڈر اور آخرت کا تصور کار فرما رہے تو وینا ملک اور زایرہ وسیم جیسے کچھ خوش قسمت لوگ، خود کو اس طلسماتی دنیا کی سحر سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں؛ ورنہ گرودت (41)، رفیع خاور ننھا (42)، دیویا بھارتی (19)، جیا خان (25) اور سشانت سنگھ راجپوت (34) کی شکل میں اپنے ہی ہاتھوں اپنے فن اور فن کار کو ختم کر دیا جاتا ہے۔

[ہمس لائیو]

اسے بھی پڑھیں:

بہار سیمانچل کے سشانت سنگھ راجپوت اداکاری سے خود کشی تک

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*