ٹرمپ کی حالیہ کارروائی سے ناخوش بش، رومنی اور کولن پاول کا ٹرمپ کو ووٹ نہ دینے کا اعلان

جارج بش، مٹ رومنی، کولن پاول اور ڈونالڈ ٹرمپ
جارج بش، مٹ رومنی، کولن پاول اور ڈونالڈ ٹرمپ

ٹرمپ کے اقدامات سے بش اور پاول دونوں ہی نالاں ہیں۔ ٹرمپ نے مظاہرین سے نمٹنے کے لئے واشنگٹن میں فوج بلائی تھی۔ انہیں کچلنے دھکیلنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ کولن پاول نے ٹرمپ کو پکا جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بار ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو ووٹ دیں گے۔ مِٹ رومنی نے بھی دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے حامی نہیں ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ میں مظاہرین سے طاقت کے ذریعہ نمٹنے کا طریقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مہنگا پڑا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے اعلان کردیا ہے کہ وہ دوبارہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔

سابق صدر جارج ڈبلیو بش، سابق وزیر خارجہ کولن پاول اور سینیٹر مٹ رومنی بھی ٹرمپ کیخلاف ڈٹ گئے ہیں اور نسل پرستی کے خلاف احتجاج و مظاہرے میں بھی مٹ رومنی شریک ہوئے۔

سابق صدر جارج بش نے واضح کیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کے بھائی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی مخمصے کا شکار ہوچکے ہیں۔

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولن پاول نے صدر ٹرمپ کو پکا جھوٹا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس بار ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو ووٹ دیں گے، پاول نے جان مک کین کی جگہ براک اوباما کو ووٹ دیا تھا۔ بش اور پاول دونوں ہی صدر ٹرمپ کے اقدامات سے ناخوش ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے واشنگٹن میں فوج بلائی تھی۔ مظاہرین کو کچلنے اور پیچھے دھکیلنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔

سابق ​​ریپبلکن صدارتی امیدوار مِٹ رومنی نے بھی دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے حامی نہیں ہیں۔ مِٹ رومنی واحد ریپبلکن سینیٹر ہیں جنھوں نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں بھی ووٹ دیا تھا۔

[ہمس لائیو]

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*