مودی کے انتخاب کے خلاف درخواست پر سماعت دو ہفتے کے لئے ملتوی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2019 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخاب کو چیلینج کرنے والی درخواست کی سماعت دو ہفتے کے لئے جمعہ کو ملتوی کردی ہے۔

مسٹر مودی کے انتخاب کے خلاف بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سابق جوان تیج بہادر یادو کی عرضی پر آج سماعت ہونی تھی۔ جیسے ہی یہ عرضی چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے، جج اے ایس بوپنا اور جج ہرشی کیش رائے کی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آئی، عرضی گزار کے وکیل نے چار ہفتوں کے لئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی، لیکن عدالت نے چار ہفتے کے بجائے دو ہفتے کے لئے عرضی کی سماعت ملتوی کر دی۔

حالانکہ اس درمیان مسٹر مودی کی طرف سے سینئر وکلاء ہریش سالوے اور مسٹر ستیہ پال جین اسکرین پر آچکے تھے لیکن بحث کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔

اس سے قبل یہ معاملہ 18 مئی کو درج فہرست کیا گیا تھا۔ نامعلوم وجوہات کے سبب چیف جسٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے، ان کے سامنے درج تمام مقدمات کی سماعت کے لئے آج (22 مئی) کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ ان میں مسٹر مودی کے انتخاب کے خلاف انتخابی درخواست بھی شامل تھی۔

تیج بہادر یادو نے مسٹر مودی کے خلاف وارانسی سے انتخابی نامزدگی داخل کی تھی لیکن وہ خارج ہوگئی تھی۔ مسٹر یادو نے مسٹر مودی کے انتخاب کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن گزشتہ برس دسمبر میں اس نے یہ کہتے ہوئے عرضی خارج کردی تھی کہ عرضی گزار کا پرچہ نامزدگی خارج ہوگیا تھا۔ و ہ امیدوار نہیں رہ گئے تھے اس لئے انہیں انتخاب کو چیلنج کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مسٹر یادو نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے

[یو این آئی]

urdu.hamslive.com

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*