امفان طوفان: وزیر اعظم کا بنگال کو ایک ہزار کروڑ روپے دینے کا اعلان

کلکتہ: وزیرا عظم نریندر مودی نے آج مغربی بنگال کے عوام کو یقین دلاتے ہوئے کہاہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں پورا ملک ان کے ساتھ ہے۔ مرکزی حکومت ”امفان طوفان“ سے ہونے والی تباہی سے بنگال کو نکالنے اور بنگال کی از سر نو بازآبادکاری کیلئے بنگال حکومت کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔ وزیرا عظم مودی نے کہا کہ ابتدائی طور پر مرکزی حکومت نے ایک ہزار کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممتا بنرجی کے ساتھ امفان طوفان سے ہونے والی تباہیوں کا فضائی جائزہ لینے کے بعد نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ امفان طوفان نے بنگال میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اورلاکھوں کروڑ روپے کے نقصانات ہوئے ہیں۔ وزیرا عظم مودی نے کہا کہ بنگال کو اس مصیبت سے نکالنے کیلئے مرکز اور ریاستی حکومت مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بنگال جلد سے جلد دوبارہ کھڑا کرنے ور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے جلد ہی مرکزی حکومت کی ایک ٹیم بنگال کا دورہ کرے گی اور زراعت، بجلی، کمیونیکیشن، سڑک، مکانات اور دیگر نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد پورا خاکہ بنائے گی۔ بازآباد کاری کیلئے موثر یوجنا بنائی جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بنگال کو از سرنو کھڑا کرنے کیلئے جو بھی ضروریا ت ہوگی اس کو پورا کرنے کیلئے ہم کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ہم نے بنگال حکومت کو ایک ہزار کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ جلد سے جلد بازآبادکاری کا کام شروع کیا جاسکے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ طوفان میں جن لوگوں کی موت ہوگئی ہے ان کے ورثاء کو دو۔دو لاکھ روپے وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ زخمیوں کے علاج کیلئے 50 ہزار روپے تک کی مدد کرنے کا انتظام کریں گے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کے بحران سے دو چار ہے اور اس سے جیتنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہندوستان بھی کورونا کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس اور طوفان سے نمٹنے کا منتر جداگانہ ہے۔ کورونا وائرس کا منتر یہ ہے کہ جو جہاں ہے وہیں رہے۔ اور معاشرتی فاصلے کو قائم رکھے۔ جب کہ طوفان کا تقاضا ہے کہ جلد سے جلد لوگوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جائے۔ دو الگ قسم کی لڑائیاں بنگال کو لڑنی پڑرہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں بنگال حکومت نے اس محاذ پر بہترین کام کررہی ہے اور مرکزی حکومت نے طوفان آنے سے قبل جو کام کرنے کا تھا اس میں بھی ریاستی حکومت کی مدد کی اور طوفان کے بعد بھی ریلیف، باز آبادکاری میں مدد کرنے کو تیار ہے۔ اس لئے ایڈوانس کے طور پر مرکز نے ایک ہزار کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے راجہ رام رائے موہن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی جینتی ہے اور بنگال کی سرزمین قابل فخر ہے وہ راجہ رام موہن رائے کی دھرتی ہے۔ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ راجہ رام موہن رائے کا آشیرومیں حاصل رہے گا اور ہم سب مل کر بنگال کی ترقی کیلئے کام کریں گے اور یہی ان کیلئے سب سے بڑی خراج عقیدت ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں بنگال کے ہر ایک شہری کو یقین دلاتا ہوں کہ مصیبت کے اس وقت میں پورا ملک آپ کے ساتھ ہے اور بھارت سرکار ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔ میں یہاں آپ سب لوگوں سے ملنے کیلئے آیا تھا۔مگر کورونا وائرس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ وزیرا عظم مودی نے کہا کہ میں یہاں سے اڑیسہ جارہا ہوں اور وہاں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لوں گا۔

بدھ کے دن آئے امفان طوفان میں 77 افراد کی موت اور لاکھوں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کئی لاکھ مکانات منہدم ہوگئے ہیں اور ہزار ہیکڑ زمین تباہ و برباد ہوگئی ہے۔ کل وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ بنگال میں ایسی تباہی میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہرطرف تباہی و بربادی کا منظر ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں ہے بلکہ مل کر بنگال کو کھڑا کرنے کا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگال کو از سر نو کھڑا کرنے کیلئے ملک کے عوام بھی آگے آئیں۔ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم مودی کو بنگال کا فضائی دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لینے کی دعوت دی تھی۔ اس کے بعد ہی وزیرا عظم نے بنگال کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

[یو این آئی]

urdu.hamslive.com