عرفان خان: دریا بھی میں، درخت بھی میں، جھیلم بھی میں چنار بھی میں، دیر ہوں حرم بھی ہوں

irfan-biograpy-khan-death
بالی ووڈ میں اپنی سنجیدہ اداکاری کے لئے مشہور ادا کار عرفان خان کا 29 اپریل 2020 بدھ کے روز ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔

بالی ووڈ میں اپنی سنجیدہ اداکاری کے لئے مشہور ادا کار عرفان خان کا 29 اپریل 2020 بدھ کے روز ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ انہوں نے اپنی زبردست اداکاری سے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی اپنے ہنر کا جوہر دکھایا لیکن وہ اداکار نہیں کرکیٹر بنناچاہتے تھے۔

عرفان خان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنا مقدر خود ہی بنایا اور ممبئی جیسے شہر میں ان کا کوئی گاڈ فادر بھی نہیں تھا لیکن اپنی اداکاری کے ہنر سے انہوں نے اپنے صلاحیت کا لوہا منوایا تھا۔ عرفان کی پیدائش راجستھان کے جےپور کے آمیر اوڑ علاقے کے ایک عام سے کنبے میں سات جنوری 1967 کو ہوئی تھی۔ان کے والد کی ایک ٹائر پنچر بنانے کی دکان تھی۔ان کے والد کا نام صاحب زادے یاسین علی خان ہے اور مان کا نام سعیدہ بیگم تھا،جن کا انتقال 25 اپریل کو ہوگیا اور وہ اپنی ماں کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوسکے تھے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

عرفان خان گھر میں بڑے بیٹے تھے تو ذمہ داریاں بھی زیادہ تھیں۔ گھروالوںکو امید تھی کہ عرفان جلد کمانا شروع کردیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔بچپن کے دنوں میں عرفان خان کرکیٹر بننا چاہتے تھے لیکن خاندان کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انہیں اپنی خواہش بدلنی پڑی۔ وہ بچپن میں اچھے کرکیٹر بھی تھے اور سی کے نائیڈو ٹرافی میں ان کا سلیکشن بھی ہوگیا تھا۔ ان کے والد کو شکار کرنا بہت پسند تھا، اس لئے عرفان بھی بچپن میں اپنی والد کے ساتھ شکار کے لئے جاتے تھے۔

عرفان جب گریجویشن کررہے تھے، اسی وقت ان کی توجہ اداکاری کی طرف ہوگئی۔ پہلے کچھ نئے اداکاروں کے ساتھ وہ اداکاری سیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ پھر ان کی ملاقات نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) کے ایک شخص سے ہوئی۔ وہ کالجوں میں جاکر ڈرامہ کیا کرتے تھے۔ عرفان بھی ان کے ساتھ ان کی ٹیم میں شامل ہوگئے اور طلبہ کے ساتھ کوریڈور میں، کلاس روم میں اور کینٹین میں ڈرامہ کرتے ہوئے ہی ایکٹنگ میں ماہر ہوئے اوراسی سمت میں کریئربنانے کے لئے سنجیدہ بھی ہوئے۔

عرفان نے جب دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں ایکٹنگ کے کورس کے لئے داخلہ لیا تو تھوڑے ہی وقت بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ ایسے میں عرفان کو گھر سے ملنے والی مالی مدد بند ہوگئی اور ایسے میں کچھ سہارا ان کو ملنے والی اسکالرشپ نے دیا اور ان کی ایک کلاس میٹ ستاپا سکندر نے بھی ان کی کافی مدد کی۔ کورس پورا ہونے کے بعد عرفان ستاپا کے ساتھ ممبئی آگئے اور بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔

کریئر گراف

عرفاں خان کے کریئر کی شروعات ٹیلی ویژن سیرئل سے ہوئی تھی۔ اپنے شروعاتی دنوں میں وہ چانکیے، بھارت ایک کھوج، چندر کانتا جیسے سیئریلوں میں نظر آئے۔ انہوں نے اپنے سنیما کریئر کی شروعات سال 1988 میں ریلیز ہوئی میرا نائر کی فلم ’سلام بامبے‘ سے ایک چھوٹے سے رول سے کی تھی۔

سال 1990 میں ریلیز فلم ’ایک ڈاکٹر کی موت‘ سے عرفام اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ پھررفتہ رفتہ انہیں کام ملنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک دہائی کا سفر گزر گیا لیکن انہیں اسٹارڈم نہیں ملا۔ سال 2001 میں عرفان کی فلم دی واریئر اور قصور ریلیز ہوئی جو کامیاب رہیں۔

اس کے بعد 2003 میں عرفان خان کی فلم حاصل ریلیز ہوئی اور اس کے ٹھیک بعد مقبول۔ ان دونوں فلموں نے انہیں وہ شہرت دلائی جس کے وہ حق دار تھے۔ اور ان دونوں ہی فلموں کے بعد ان کے کریئر نے اچانک رفتار پکڑ لی۔ سال 2007 میں ریلیز فلم ’لائف ان اے میٹرو‘ اور دی نیمسیک میں عرفان خان نے زبردست اداکاری کی اور شائقین کا دل جیت لیا۔

عرفان خان نے نہ صرف بالی ووڈ بالکہ کئی ہالی ووڈ فلموں میں بھی کام کیا اور اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔سال 2008 میں ریلیز سپر ہٹ ہالی ووڈ فلم سلم ڈاگ ملینائر میں عرفان خان نے زبردست رول ادا کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے ہالی ووڈ فلم دی امیزنگ اسپائڈر مین ،جوراسک ورلڈ،انفرنو،اے مائیٹی ہارٹ،سینی کوڈووغیرہ فلموں میں بھی کام کیا۔سال 2016 میں ریلیز ہوئی ہالی ووڈ فلم دی جنگل بک میں عرفان نے اپنی آواز بھی دی۔ ہالی ووڈ کے مشہور ادا کار ٹام ہینکس کو یہ کہنے کے لئے مجبور ہوناپڑا کہ عرفان خان کی آنکھیں بھی اداکاری کرتی تھیں۔

سال 2011 میں ہندوستانی حکومت نے عرفان خان کو پدم شری سے نوازا۔ سال 2012 میں انہیں فلم پان سنگھ تومر میں اداکاری کے لئے بہترین اداکار کا نیشنل ایوارڈ دیاگیا۔ سال 2012 میں آنگلی کی فلم لائف آف پائی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم پوری دنیا میں سپرہٹ ہوئی۔ اس کے بعد عرفان نے سال 2013 میں ریلیز ہوئی سپرہٹ فلم دی لنچ باکس میں بھی کام کیا۔

سال 2004 میں انہیں فلم حاصل کے لئے بہترین ویلین کا فلم فیئرایوارڈ بھی ملا۔ سال 2008 میں فلم لائن ان اے میٹرو کے لئے فلم فیئر کے بہترین معاون اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے بعد انہیں فلم ہندی میڈیم کے لئے بھی بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔

عرفان خان نے اپنے سنیما کریئر میں تقریباً 90 فلموں میں کام کیا۔ ان کے کریئر کی بہترین فلموں میں گناہ، فٹ پاتھ، آن: مین ایٹ ورک، چاکلیٹ، روگ، ساڑھے سات پھیرے، سنڈے ، کریزی 4، بلو، جذبہ، پیکو، یہ سالی زندگی، تھینکیو، رائٹ یا رانگ، حصہ، ناک آؤٹ، ایسڈ فیکٹری، نیویورک، صاحب بی بی اور گینگسٹر ریٹرنس، ڈی ڈے، غنڈے، حیدر، تلوار، مداری، انگریزی میڈیم اور ہندی میڈیم وغیرہ شامل ہیں۔

آخری سفر

ذاتی زندگی میں بھی مختلف النوع تھے۔ وہ اپنے مشہور ڈائیلاگ کے مماثل تھے: دریا بھی میں، درخت بھی میں، جھیلم بھی میں چنار بھی میں، دیر ہوں حرم بھی ہوں، شیعہ بھی ہوں سنی بھی ہوں، میں ہوں پنڈت، میں تھا میں ہوں اور میں ہی رهوگا. وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کا علاج غیرملکی ہسپتالوں میں بھی ہوا تھا۔ بالآخر ان کا ایسے وقت میں انتقال ہوا جب ملک بھی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے وبا سے لاک ڈاؤن (تالا بندی) نافذ ہے۔

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*