کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ذہنی مریضوں سے بھرپور وادی کشمیر

سری نگر: کورونا وائرس کے خوف اور اس کے پیش نظر نافذ لاک ڈاؤن سے وادی کشمیر میں ذہنی صحت کی حالت بد سے بدتر ہورہی ہے جس کے باعث جہاں ایک طرف گھروں کا چین وسکون برباد ہورہا ہے وہیں یہ وبا کورونا وبا سے بھی بھیانک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔

ادھر وادی میں بعض تنظیمیں سرگرم ہوگئی ہیں جو لاک ڈاؤن کے بیچ ذہنی مریضوں کو ضروری سہولیات بہم پہنچانے میں مصروف عمل ہیں۔ ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ وادی میں پہلے ہی ہر پانچ افراد میں سے تین افراد ذہنی مریض ہیں اور کورونا وبا اور اس کے پیش نظر لاک ڈاؤن سے صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے۔

غیر یقینی صورت حال

ماہر نفسیات ڈاکٹر عارف مغربی خان نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام لوگوں کی روز مرہ کی زندگی کے معمولات متاثر ہوئے ہیں اور نتیجتاً ذہنی مسائل نے جنم لیا ہے۔

انہوں نے کہا: ‘کشمیر میں ذہنی صحت کے زیادہ متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ ایک عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت بھی غیر یقنی صورتحال سایہ فگن ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ لاک ڈاؤن اگر کھلے گا تو کب کھلے گا’۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں بہت زیادہ ڈر بھی ہے۔ اب جو پہلے سے ذہنی صحت کے متعلق امراض میں مبتلا تھے وہ یا ٹھیک ہوچکے تھے یا ان کی حالت زیادہ ہی خراب ہے۔ ایسے افراد نے ذہنی مسائل سے باہر نکلنے کے لئے مختلف کام شروع کئے تھے لیکن اب وہ سب متاثر ہوچکا ہے’۔

آن لائن کونسلنگ کی ضرورت

ڈاکٹر عارف نے کہا کہ جن افراد کو ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے انہیں ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے۔ تاہم ان کا ساتھ ہی کہنا تھا: ‘ڈاکٹروں کے پاس جاتے وقت انہیں سماجی دوری کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ زیادہ بہتر یہ ہوتا اگر یہاں ایسے مریضوں کی آن لائن کونسلنگ ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہمارا سست رفتار انٹرنیٹ اس کی اجازت دیتا ہے’۔

ذہنی مریضوں کو مدد بہم پہنچانے والے ایک ادارہ ‘اتفاق، یونائیٹڈ وی سٹینڈ’ سے وابستہ اور انسٹی ٹیوٹ آف منٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنسز کشمیر کی ریسرچ اسکالر نادیہ اشفاق کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ خوف کو دور کرنے کے متعلق ہم سے کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس خوف کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ کورونا وائرس کے متعلق اپ ٹو ڈیٹ رہیں اور سوشل میڈیا پر آنے والے ہر پوسٹ کو پڑھیں نہ اور شیئر کریں۔ نادیہ اشفاق کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ ذہنی مریضوں کو اس مشکل گھڑی میں ماہرین نفسیات کی سہولیات فراہم کرتے ہیں اور انہیں دیگر ضروری مشورے دینے کے لئے اقدام کررہا ہے۔

ذہنی وبا سے کورونا اور پھر ذہنی وبا

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ وادی میں پانچ اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے باعث ذہنی مرض ایک وبا کی شکل اختیار کرگیا تھا لیکن اب کورونا وبا نے اس کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وادی میں مختلف شعبہ ہائے حیات جیسے سیاحت، ٹرانسپورٹ سے جڑے لوگوں اور دیگر تجارت پیشہ لوگ بالخصوص مزدور طبقے میں ذرائع معاش مفقود ہونے کے باعث ذہنی مرض نہ صرف مزید سنگین ہوگیا ہے بلکہ اس نے مزید لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے اور صحت یاب ہوئے مریضوں میں بھی یہ بیماری دوبارہ زندہ ہوگئی ہے۔

محمد علی نامی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری نے کہا کہ کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے ذہنی مرض میں اضافہ ہوا ہے اور وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن سے لوگوں خاص کر ٹرانسپورٹ اور سیاحت سے جڑے لوگوں، دکانداروں، مزدروں، ریڈہ بانوں کا روز گار متاثر ہونے سے وہ ایسی پریشانیوں میں گرفتار ہوئے ہیں جو ذہنی صحت پر اثر انداز ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں سے نہ صرف ان کے خاندان کا امن وسکون درہم و برہم ہوگا بلکہ معاشرے پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

لاک ڈاؤن اب معمولات کا حصہ

سینئر ذہنی صحت تھراپسٹ نازیہ رشید کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خوف سے ہمارے تمام کام متاثر ہوجاتے ہیں لہٰذا اپنی ذہنی صحت کو صحت مند رکھنے کے لئے ہمیں لاک ڈاؤن کو معمولات کا حصہ بنالینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ذہنی صحت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو بھی وقت دیں اور گھر والوں کے ساتھ بھی ٹھیک وقت گزاریں۔

نازیہ رشید کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی خوراک کی طرف خاص توجہ دینے اور کورونا کے بارے میں جاری کی جارہی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے تاکہ ہم اس وبا سے بھی محفوظ رہ سکیں اور ہمارا ذہنی صحت بھی برقرار رہ سکے۔

قابل ذکر ہے کہ سن 2015 میں ڈاکٹرس ودآوٹ بارڈرس اور انسٹی چیوٹ آف منٹل ہیلتھ اور نیورو سائنسز سری نگر نے کشمیر میں ذہنی صحت پر ایک جامع سروے کیا تھا جس میں یہ پایا گیا تھا کہ یہاں ذہنی صحت کے مسائل وباء کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

مذکورہ سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ 18 لاکھ کشمیری شہریوں میں ذہنی امراض کی علامتیں موجود ہیں۔ یہ وہ کشمیری ہیں جو یہاں کی آبادی کا 45 فیصد حصہ ہیں۔ سروے میں پایا گیا تھا کہ وادی میں 16 لاکھ بالغان میں ڈپریشن کی واضح علامتیں موجود ہیں۔ دس لاکھ ایسے ہیں جن میں اینگزائٹی (ذہنی دباؤ) کی علامتیں موجود ہیں۔ 93 فیصد کشمیری وہ ہیں جنہیں وادی میں جاری شورش کے متعلق ٹراما کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

[یو این آئی]

urdu.hamslive.com

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*