تبلیغی جماعت کے مرکز نے نہیں کی کوئی لاپروائی: مولانا سلونی

غیر ملکی تبلیغی جماعت کی درخواست پر سپریم کورٹ میں پیر کو سماعت
غیر ملکی تبلیغی جماعت کی درخواست پر سپریم کورٹ میں پیر کو سماعت

مولانا یوسف سلونی نے کہا کہ جنتا کرفیو کے ساتھ ساتھ دہلی میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا اور لوگوں کو ان کے گھر بھیجنا مشکل ہو گیا۔ مركز کے سربراہ مولانا سعد کے علاوہ دیگر کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے تبلیغی مرکز میں لاک ڈاؤن کے باوجود بری تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔

نئی دہلی: نظام الدین مركز سے کورونا وائرس انفیکشن کے معاملہ سامنے آنے کے بعد وہاں کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے سب کچھ اچانک ہونے کی وجہ سے لوگ یہاں پھنسے رہ گئے پھر ان کی طرف سے کوئی غفلت نہیں برتی گئی ہے۔

مرکز کے منتظمین میں سے ایک مولانا یوسف سلونی نے منگل کے روز ایک بیان جاری کرکے کہا کہ تبلیغی جماعت کا یہ مرکز پوری دنیا کا مرکز ہے اور گزشتہ ایک سو برسوں سے عام لوگوں تک اسلامی تعلیم پہنچانے کا کام کرتا رہا ہے۔ یہاں آنے والوں کا پروگرام ایک سال پہلے طے ہوتا ہے اور جو لوگ بھی یہاں آتے ہیں وہ صرف تین سے پانچ دن یہاں قیام کرتے ہیں۔ اس کے بعد مختلف علاقوں میں اسلامی تعلیمات کے کام پر نکل جاتے ہیں۔

مولانا سلونی نے کہا کہ جب ’جنتا کرفیو‘ کا اعلان ہوا، اس وقت بہت سے لوگ مركز میں موجود تھے۔ اسی دن مركز کو بند کر دیا گیا۔ باہر سے کسی کواندر آنے نہیں دیا گیا اور جو لوگ یہاں رہ گئے تھے، انہیں گھر بھیجنے کا انتظام کیا جانے لگا۔ اکیس مارچ کو ہی ریل خدمات بند ہونے لگیں، تو باہر کے لوگوں کو بھیجنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود دہلی اور ارد گرد کے تقریباً 1500 لوگوں کو گھر بھیجا گیا لیکن قریب 1000 لوگ مركز میں باقی رہ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جنتا کرفیو کے ساتھ ساتھ 22 سے 31 مارچ تک کے لئے دہلی میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا۔ بس یا پرائیویٹ گاڑیاں بھی ملنی بند ہو گئیں۔ ایسے میں پورے ملک سے آئے لوگوں کو ان کے گھر بھیجنا مشکل ہو گیا۔

مولانا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کا حکم مانتے ہوئے لوگوں کو باہر بھیجنا درست نہیں سمجھا گیا اور انہیں مركز میں ہی رکھنا مناسب سمجھا گیا۔ چوبیس مارچ کو نظام الدین تھانے کی جانب سے نوٹس بھیج کر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔ اس کے جواب میں پولیس کو بتایا گیا کہ مركز کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں سے 1500 لوگوں کو ان کے گھر بھیج دیا گیا ہے لیکن 1000 لوگ جانے سے رہ گئے ہیں جنہیں بھیجنا مشکل ہے۔ پولیس کو یہ بھی جانکاری دی کہ یہاں رہنے والوں میں کچھ غیر ملکی شہری بھی ہیں۔

دہلی پولیس نے نظام الدین واقع تبلیغی جماعت کے مركز کے سربراہ مولانا سعد کے علاوہ دیگر کے خلاف سرکاری احکامات کی خلاف ورزی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ مولانا سعد اور مرکز کے دیگر لوگوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 269 ،270، 271 اور دفعہ 120-بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وبائی بیماری ایکٹ 1897 کے تحت نظام الدین کے مركز کے منتظمین کو دی گئیں سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مركز سے وابستہ 24 افراد کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے۔ مرکز میں قیام کے بعد یہاں سے جانے والوں میں سے 10 لوگوں کی کورونا وائرس سے موت ہو چکی ہے۔ یہاں سے 1100 سے زیادہ لوگوں کو نکال کر كوارٹین کیا گیا ہے۔

دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے نظام الدین کے مرکز میں لاک ڈاؤن کے باوجود بری تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم غیر ذمہ دارانہ حرکت کریں گے تو بہت دقتیں ہوں گی۔

مسٹر کیجریوال نے منگل کو میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ مرکز سے 1548 لوگوں کو نکالا گیا ہے جس میں 441میں کورونا وائرس کی علامات نظر آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1107 لوگ قرنطینہ میں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکز معاملے میں لاپرواہی برتنے والے افسروں کو بخشا نہیں جائےگا۔

انہوں نے کہاکہ دہلی کے 97 معاملوں میں 24 مرکز سے ہیں۔کل معاملوں میں 41 افراد غیرملکوں سے آئے ہوئے ہیں اور 26 ان کے رشتہ داروں سے جڑے ہیں۔مسٹر کیجریوال نے کہاکہ مرکز کا واقعہ زندگی کے ساتھ کھلواڑ ہے۔مرکز میں 12مارچ کو بھی غیرملکوں سے لوگ آئے ہیں۔

وزیراعلی نے کہا کہ دہلی میں حالات قابو میں ہیں اور کمیونٹی ٹرانسمیشن نہیں ہے۔ سبھی سے تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ ایسی بیماری ہے جس سے بڑے بڑے ملک پست ہوگئے ہیں۔ایسی حالت میں بھی اگر ہم غیر ذمہ دارانہ حرکت کریں گے تو بہت دقت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نوراتر چل رہے ہیں مندر خالی ہیں۔گرودوارے، مکہ اور واٹیکن سٹی سب ویران ہیں،ابھی چار لاکھ لوگوں کو کھانا پہنچایا جارہا ہے اور جلد ہی دس سے بارہ لاکھ لوگوں کےلئے کھانے کا انتظام کیاجائےگا۔اس کےلئے 2700 مقامات پر کھانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔

[ہمس لائیو]

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*