مہاجر مزدوروں کے حالات سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت منگل تک ہوئی ملتوی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے گاؤں کی طرف پیدل چل رہے مہاجر مزدوروں کے لئے نقل و حمل کا انتظام کرنے اور انہیں مناسب طبی سہولیات مہیا کرانے کی ہدایات سے متعلق ایک پٹیشن کی سماعت منگل تک ٹالتے ہوئے مرکزی حکومت سے اپنا موقف رکھنے کو کہا ہے۔

چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی خصوصی بنچ نے پیر کو معاملہ کی سماعت ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ درخواست گزار الکھ آلوک شریواستو اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی دلیلیں سنیں اور سماعت منگل دوپہر سوا بارہ بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔

مسٹر شریواستو نے میڈیا میں شائع ان خبروں کا حوالہ دیا جس میں مزدوروں کے سڑکوں پر جھنڈکی شکل میں اپنے گاؤں کی جانب پیدل جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ انہوں نے ان مزدوروں کو گاؤں پہنچانے کے لئے مناسب ٹرانسپورٹ کاانتظام اور راستے میں طبی وغیرہ ضروری سہولیات مہیا کرانے کے لئے مرکز اور دہلی حکومت کو ہدایات دینے کی کورٹ سے درخواست کی تھی۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل نے دلیل دی کہ مرکزی حکومت اور مختلف ریاستی حکومتوں نے ان مسائل کے تدارک کے لئے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں ہر لمحے صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسی کے مطابق ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

مسٹر مہتا نے دلیل دی کہ وہ مختلف حکومتوں کی طرف سے کئے جا رہے اقدامات کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انہیں مہلت دی جانی چاہئے۔

(یواین آئی)