کرونا وائرس کے سبب نفسیاتی مریضوں میں ہوا اضافہ

ممبئی: کرونا وائرس اور اس کے متعلق خبروں کے مطالعہ اور دیکھنے سے نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو ایک تشویشناک امر ہے لہذا ایسی باتوں سے بچنا چاہیئے جو نفسیاتی مرض کا سبب بنیں -ان خیالات کا اظہار آج یہاں شہر کے ماہر نفسیات نے کیا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق خبروں کے مطالعہ سے گریز کریں۔

عروس البلاد ممبئی کے ناگپاڑہ اور کرلا علاقہ کے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر ساجد خان نے کہا ہے کہ آج اس مرض کی وجہ سے ہر عام و خاص ایک عجیب خوفناک دور سے گزر رہا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خوف کو لوگوں کے دلوں سے دور کیا جائے –
انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق خبروں سے خود کو دور رکھنا اور انٹرنیٹ سے اضافی معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنے سے مریض کو افاقہ حاصل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرنے اور خوفزدہ کرنے والے میسیج نہ بھیجے جائیں کیونکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر ہر کوئی مضبوط نہیں ہوتا ہے نیز ممکن ہو تو گھر میں انتہائی مناسب آواز میں اچھی میوزک سنیں، بچوں کے ساتھ کھیلیں -انہیں کہانیاں سنائیں اور مستقبل کے منصوبے پر گفتگو کریں۔

مالیگاوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سعید احمد فرانی نے کہا کہ ایک مخصوص وقت اور نظم و ضبط کے ساتھ سب لوگوں کو ہاتھوں کو دھونے کی عادت ڈالنی چاہیئے نیز مثبت اور اچھی طرح سے عوام کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے لہذا کوشش یہ کرنا چاہیئے کہ طرز فکر میں تبدیلی لا کر اچھی باتوں کی طرف دھیان دینا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ منفی سوچ اور خیالات انسانی جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتے ہیں اور اس طرح سے انسان آسانی سے وائرس کا شکار ہو جاتا ہے۔

نامور ہومیوپیتھی معالج ڈاکٹر انور امیر انصاری نے بھی اس ضمن میں مختلف مشورے دیئے اور کہا کہ ہم سب کو پکا یقین اور عقیدہ رکھنا چاہیئے کہ یہ مشکل وقت بھی آخر کار گزر جائے گا اور یہ کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور لفظ اللہ محبت ہی محبت ہے سزا نہیں۔
(یو این آئی)