کورونا وائرس کے خطرات کے باوجود سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری

کرونا وائرس سے متعلق دنیا بھر کی افراتفری کے باوجود سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف لوگوں کی تحریکوں میں کمی آنے کی بجائے اس میں شدت آرہی ہے۔ پورے ملک میں سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف لوگوں کا غم وغصہ ہے اور لوگ ہزاروں مقامات پر اس کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہیں ان ہی دھرنوں میں سے ایک بہار کے دارالحکومت پٹنہ کا قلب کہا جانے والا سبزی باغ کا دھرنا بھی ہے جو مسلسل 68 ویں دن جاری ہے۔

پٹنہ، 20 مارچ ( HAMS) جہاں پوری دنیا میں وبائی مرض کورونا وائرس کی وبا کی خبر سے لوگ پریشان ہیں اور جس میں ابھی تک ہزاروں اموات ہو چکی ہیں اور لاکھوں لوگ اس بیماری کی زد میں ہیں، وہیں وہیں ہندوستان میں اس وبائی مرض کے کچھ مریض ملے ہیں اور دو چند اموات بھی ہوئی ہیں۔ لیکن ان سب کے باجود سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف لوگوں کی تحریکوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ اس تحریک میں روز بروز شدت آرہی ہے۔

یوں توپورے ملک میں سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف لوگوں کا غم وغصہ دیکھنے کو مل رہاہے اور لوگ ہزاروں مقامات پر اس کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہیں ان ہی دھرنوں میں سے ایک بہار کے دارالحکومت پٹنہ کا قلب کہا جانے والا سبزی باغ کا دھرنا بھی ہے جو مسلسل 68 ویں دن جاری ہے۔ یہاں بھی عوام نے مسلسل سی ای اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا ہے۔ بچے، بوڑھے، جوان، خواتین، بزرگ یعنی ہر کوئی اس خطرناک قانون کے خلاف صف بستہ ہے اور سبھوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں اس طرح کا کالاقانون نہیں چاہئے۔

مظاہرین کاکہناہے کہ ہمیں اس کالے قانون کو ختم کراکر ہی دم لینا ہے چاہے جوکچھ بھی ہوجائے۔ کیونکہ وبائی مرض کورونا تو کچھ دن رہےگا اور ختم ہو جائے گا لیکن یہ قانون اگر رہ گیا تو کڑوروں لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن جائیں گی اور کڑوروں افراد بے گھر ہوجائیں گے جس سے انسانی بحران کا اندیشہ ہے اور یہ بحران صرف ہندوستان تک ہی نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ آج ایسے ہی ہمارا ملک مختلف مسائل سے کا سامنا کر رہا ہے۔ آج ہر طرف افرا تفری کا عالم ہے۔ روزرگار ختم ہورہے ہیں عدلیہ اور ججوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، بینکوں کا دیوالیہ نکل رہا ہے، عوام کے پیسے ڈوب رہے ہیں۔ کمپنیاں مقفل ہورہی ہیں۔ عوام کو دو وقت کی روٹی کے لئے سخت مشقت اٹھانا پڑرہاہے۔ صحت کا نظام بالکل چوپٹ ہے، بے موسم بارش سے کسان کرارہ رہے ہیں اس پر مستزاد یہ کہ حکومت ایسے ایسے سخت قوانین عوام پر تھوپنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی نہ آئینی حیثیت ہے اور نہ ہی اسے ایک مہذب سماج گوارہ کر سکتا ہے۔ لیکن نہ جانے یہ حکومت کس مگن میں ہے اور کیوں لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔

مظاہرین کا کہناہے کہ یہ کوئی چھوٹی تحریک نہیں ہے بلکہ آزاد ہندوستان میں اس طرح کی کوئی تحریک ہی نہیں ہوئی جو اتنے طویل عرصے تک چلی ہو۔ اور اس تحریک میں خواتین سب سے اول صف میں ہیں۔ آج پوری دنیا سمیت ملک کے وزیر اعظم اور بی جے پی خواتین کو عزت دینے کی بات کرتی ہے لیکن آج خواتین تین مہینے سے زائد سے سڑکوں پر ہیں لیکن ان کاکوئی پرسان حال نہیں ہے یہ کیسی خواتین سے ہمدردی ہے۔ بلکہ الٹا دیکھا گیا کہ متعدد جگہوں خاص کر اترپردیش حکومت نے خواتین پر تشدد اورمظالم کی انتہاء کردی اور انہیں دھرنے سے اٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن خواتین نے ہمت نہیں ہارا اور آج وزیر داخلہ جو کہتے تھے کہ ہم ایک انچ نہیں پیچھے ہٹیں گے وہ ہزاروں انچ پیچھے ہٹ چکے ہیں لیکن یہ اس وقت تک ناکافی ہے جب تک حکومت پورے طور پر پیچھے نہیں ہٹ جاتی اس وقت تک ہماری لڑائی جاری رہے گی، چاہے ہمیں کسی بھی نتیجے کا سامنا کرنا پڑے ۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کالے قانون کے آنے کے بعد بہت ہی نقصان اٹھایا ہے جانی نقصان کے ساتھ مالی نقصان لیکن پھر بھی ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں چاہے جو کچھ بھی ہوجائے۔ دھرنا میں روزانہ لوگ دعاﺅں کا اہتمام کرتے ہیں جس میں ملک کی اتحاد وسالمیت اور اس کی یکجہتی کے لئے دعائیں ہوتی ہیں ساتھ ہی اس قانون کے ختم ہونے کے لئے بھی دعائیں کی جاتی ہیں۔ اور دعاﺅں میں کثیر تعداد میں لوگ موجود رہتے ہیں اور یہ کام مسلسل ہورہاہے۔

دھرنا کو 68 دن ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک دھرنا پرامن جاری ہے راہگیروں کو بھی کسی طرح کی کوئی پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑرہاہے۔ دھرنا کوکامیاب بنانے میں سبزی باغ سمیت قرب وجوار کے افراد بالخصوص نوجوان پیش پیش ہیں۔ ان کی کوششوں سے دھرنا کامیابی سے جاری ہے اور اپنے 68 ویں دن میں داخل ہوگیا ہے۔ دھرنا میں آئے دن کوئی نہ کوئی بڑی شخصیت شامل ہوتی ہے اور لوگوں کو این آر سی اور این پی آر، سی اے اے کی خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ دھرنا میں پیش پیش ہیں ان میں سابق میئر افضل امام، وارڈ کونسلر اسفر احمد، محمد افضل، گولڈن، سابق وارڈ پارشد شہزادی بیگم انورالہدی یوسف ، گلزاراحسن، عظیم، پٹنہ یونیورسیٹی کے طلباء سمیت دیگر افراد قابل ذکر ہیں۔