خواجہ صاحب ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے بانیوں میں شامل : اخترالواسع

مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کی طرف سے ایک 31 رکنی وفد نے انتہائی عقیدت کے ساتھ خواجہ ٔخواجگان کے مزار پر ایک چادر پیش کی۔ ملک میں امن و امان، خیر سگالی، قومی یکجہتی کے لیے دعائیں کی گئیں۔

اجمیر، 28 فروری (HAMS) حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کے 808 ویں عرس کے موقع پر حسبِ روایت مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کی طرف سے ایک 31 رکنی وفد نے انتہائی عقیدت کے ساتھ خواجہ ٔخواجگان کے مزار پر ایک چادر پیش کی۔

اس وفد میں مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کے سابق جنرل سیکریٹری الحاج محمد عتیق،مولانا آزاد یونیورسٹی کے صدر اور پدم شری پروفیسر اخترالواسع، سابق ٹریزرار حاجی محمد اسحق، سوسائٹی کے سینیئر ممبر محمد حنیف لوہانی، ایڈمنسٹریٹیو افسر محمد صادق فاروقی، پرویز احمد، انور عباسی، ڈاکٹر ذیشان، شہاب الدین اور واجد علی شامل تھے۔

چادر چڑھانے کی رسم انجمن سید زادگان، درگاہ شریف اجمیر کے جنرل سیکریٹری جناب سید واحد حسین چشتی (انگارہ شاہ) نے ادا کرائی اور وفد کے ارکان کی دستار بندی بھی کی۔

اس سے قبل وفد کا استقبال انجمن سیدزادگان کے صدر سید معین الدین چشتی اور درگاہ کمیٹی کے صدر امین پٹھان اور ناظم شکیل احمد نے کیا۔ ارکان وفد کی طرف سے درگاہ کمیٹی اور انجمن کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروفیسرا خترالواسع نے کہا کہ حضرت خواجہ صاحب ہندوستان کو عطائے رسول ہیں اور غریب نواز بھی۔ حضرت خواجہ صاحب کی وجہ سے تصوف کی دنیا میں ہندوستان کو چشتیہ سلسلے کی عالمی راجدھانی ہونے کا شرف حاصل ہے اور خواجہ صاحب ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے بانیوں میں شامل ہیں۔

اس موقع پر ارکان وفد نے سید واحد حسین چشتی کی قیادت میں ملک میں امن و امان، خیر سگالی، قومی یکجہتی اور خاص طور سے دہلی میں ہونے والے پرتشدد واقعات پر قابو پایا جا سکے اور لوگوں میں نفرت کی جگہ محبت اور عناد کی جگہ اتحاد قائم ہو اس کے لیے دعائیں کیں۔

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*