اردو زبان میں ڈیجیٹل صحافت کے عصری تقاضے پر نصیریہ فاؤنڈیشن کا قومی سیمینار

ڈیجیٹل صحافت ٹیکنالوجی پر منحصر ہے۔ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بالخصوص انٹرنیٹ پر مکمل دسترس اور ملٹی میڈیا کا صحیح استعمال ڈیجیٹل صحافت کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں۔ ا کہ ڈیجیٹل صحافت کو ریئل ٹائم ہونا چاہئے تاکہ اس کی افادیت برقرار رہے۔ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نہ صرف زبان بلکہ سماج کے لئے انتہائی مضر ہے اور یہ لاقانونیت پھیلاتا ہے، لہذا ذمہ داری کے ساتخبروں کی ترسیل بے حد ضروری ہے۔

کشن گنج، 26 فروری 2020 (HAMS) قومی کاؤنسل برائے فروغِ اردو زبان کے مالی اشتراک سے نصیریہ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام یک روزہ قومی سیمینار آج بدھ کے دن کشن گنج بہار کے آکسفورڈ انٹرنیشنل اسکول میں ‘اردو زبان میں ڈیجیٹل صحافت کے عصری تقاضے’ کے عنوان پر منعقد کیاگیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے معروف صحافی اور اسکالرز نے شرکت کی اور سامعین کی ایک بڑی تعداد کے سامنے اپنے پرمغز تحقیقی مقالے پڑھے۔

سیمینار کا آغاز نصیریہ فاؤنڈیشن کے صدر اور سیمینار کے منتظم ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے خوبصورت انداز میں مقالہ نگاروں اور دیگر شرکاء کا استقبال کرتے ہوۓ کیا۔ اپنے استقبالیہ خطبے میں ڈاکٹر نصیری نے عصرِ حاضر میں ڈیجیٹل صحافت کی معنویت اور اس کے پیشِ نظر اردو زبان میں ڈیجیٹل صحافت کے تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوۓ مقالہ نگاروں کو اپنے مقالے پیش کرنے کی دعوت دی۔

افتتاحی خطبے میں معروف تعلیم داں اور اسکالر موصوف سرور نے ہندوستان میں صحافت اور اردو صحافت کی مختصر تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈیجیٹل صحافت کے عالمی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے ہندوستان میں اردو زبان میں ڈیجیٹل صحافت کی موجودہ صورتحال اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے زیرِ اثر اس کے امکانات پر مبسوط تذکرہ کیا۔

ممبئ سے آئے مولانا نورالقمر نے کہا کہ صحافت دراصل انبیاء کی وراثت ھے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور حق بات کو سامنے لانے کا کام متکلمین کے بعد صحافیوں کا ہے۔ قران کریم نے اللہ نے پچھلے انبیاء پر اتارے گۓ احکامات کو صحیفہ کہا ھے اور صحافت اور صحافی کی اصل عربی کا لفظ صحیفہ ھے۔

معروف آر ٹی آئی اکٹیوسٹ، نوجوان صحافی اور آن لائن نیوز پارٹل بیونڈ ہیڈلائنز کے ایڈیٹر ان چیف افروز عالم ساحل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈیجیٹل صحافت کے چار اجزائے ترکیبی ہیں۔ انفارمیشن یعنی مواد، پیکیجنگ یعنی پیشکش، ٹیکنالوجی اور ریوینیو یعنی آمدنی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل جو خبریں ہم تک پہنچتی ہیں وہ دراصل سرکاری ایجنسیوں کے PR Products ہوتے ہیں۔ اصل خبریں وہ ہوتی ہیں جو عوام سے چھپائی جاتی ہیں۔ ایک صحافی کا بنیادی کام یہ ہے کہ اصل خبروں کو باہر نکال کر عوام تک پہنچاۓ۔ اس کام میں رائٹ ٹو انفارمیشن (معلومات کا حق) سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے کئی مثالوں کے ذریعہ یہ بتایا کہ آر ٹی آئی صحافی کے لئے کتنا کارآمد ہو سکتا ھے۔

دہلی سے تشریف لائ دی وائر اردو (آن لائن نیوز پورٹل) کے سابق ایڈیٹر اور آزاد صحافی مہتاب عالم نے ڈیجیٹل صحافت کے تقاضوں اور درپیش چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو کے دوران بتایا کہ ڈیجیٹل صحافت ٹیکنالوجی پر منحصر ہے۔ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بالخصوص انٹرنیٹ پر مکمل دسترس اور ملٹی میڈیا کا صحیح استعمال ڈیجیٹل صحافت کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل صحافت کو ریئل ٹائم ہونا چاہئے تاکہ اس کی افادیت برقرار رہے۔ درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل صحافت میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی ساخت انگریزی زبان کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے اور اردو زبان اور رسم الخط کے تقاضے یکسر مختلف ہیں لہذا اس ٹیکنالوجی سے اردو کو ہم آہنگ کرنے میں خاصی دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔ مہتاب عالم نے مزید بتایا کہ اردو ڈیجیٹل صحافت کو زبان کے معاملے میں لبرل ہونا چاہئے۔ عام فہم اور قارئین کو آسانی سے سمجھ میں آنے والی زبان کا استعمال اس میڈیم کو زندہ رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انفارمیشن کو پیش کرنے سے قبل اس کی جانچ پڑتال بے حد ضروری ہے۔

معروف دانشور اور سماجی اور سیاسی رہنما اختر الایمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ خبر انسان کی فطری ضرورت ہے۔ خبروں کے تعلق سے فکرمندی زندگی کی علامت ھے اور لاتعلقی موت ہے۔ انہوں نے اردو دنیا میں خبروں سے بے خبری پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کے ڈیجیٹل صحافت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ھے کہ اردو کو زندہ رکھیں اور اردو کی بقا کے لئے یہ نہایت ضروری ھے کہ اسے عام زندگی میں اتارا جائے۔

سیمینار کے مہمانِ خصوصی کشن گنج کے ایس پی جناب کمار آشیش نے نے کہا کہ فری ڈیٹا کے اس دور میں جو باتیں خبروں کی شکل میں لوگوں تک پہنچائی جا رہی ہیں وہ انتہائی قابلِ تشویش ہیں۔ ‌انہوں نے کہا کہ ڈیٹا فری ہوسکتا ہے لیکن ہماری مشترکہ تہذیب اور ثقافت فری نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال سماج کے لئے انتہائی مضر ہے اور یہ لاقانونیت پھیلاتا ہے۔ لہذا خبروں کی ترسیل سے پہلے اپنی ذمہ داری اور اپنی حیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔

روزنامہ قومی تنظیم کے بیورو چیف جناب علی رضا صدیقی نے سیمینار کے انعقاد کے لئے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اردو صحافت آج کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو صحافت کے میدان میں آنے کی ترغیب دیتے ہوۓ کہا کہ میڈیا کا غیر جانبدار رہنا ضروری ہے۔

اسلام پور کالج (مغربی بنگال) کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عزیر اسرائیل نے ڈیجیٹل صحافت کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میدان میں سرمایہ داروں کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اور یہ حکومت کے شکنجے سے باہر ہے۔ اس کی رسائی پوری دنیا میں بکھرے ہوئے قارئین تک ہے جہاں روایتی میڈیا نہیں پہنچ پاتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل صحافت کے سامنے درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قارئین کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے۔ قارئین کی عدم سنجیدگی بھی ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل صحافت کے میدان میں ابھی تک سرمایہ کاری کی کمی ہے۔

آخبارِ مشرق کے بیورو چیف فیضان اشرف نے صحافت میں ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اسلام پور ہائی اسکول میں اردو کے استاذ عبد الواحد مخلص نے ترقی کے اس دور میں اپنی مادری زبان اور ادب کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا میں اخلاقی اقدار کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا۔ گجرات کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کس طرح ڈیجیٹل میڈیا اخلاقی اقدار کو نظر انداز کر لوگوں کی اذیتوں کو اپنے صارفین کی تفریح اور ذہنی عیاشی کا سامان بنا کر پیش کردیتا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔

ممبئی فلم انڈسٹری سے تشریف لائے نوجوان عمران انور نے اپنے تجربے کی روشنی میں بتایا کی اردو کی جانکاری فلمی دنیا میں بھی کافی معاون ہوتی ہے۔

پریزیڈنسی یونیورسٹی کولکاتہ سے تشریف لاۓ شعبۂ تاریخ میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سجاد عالم رضوی نے اپنے کلیدی خطبے میں سیمینار کے عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے صحافت کے بنادی عناصر بتائے اور صحافت کی فکری بنیادوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ صحافت کے سیاسی، سماجی، تاریخی اور علمی پہلوؤں کا احیاء کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح صحافت میں استعمال ہونے والی زبان مختلف contexts میں اپنے معنی بدل دیتی ہے۔ صحافت اور معیشت کے باہمی رشتے اور وجود کی درجہ بندی (hierarchy) میں صحافت کی حیثیت پر بھی انہوں نے گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافت میں اخلاقیات کا مقام بہت اونچا ہے۔

مفتی منظر محسن نے قران کی آیتِ کریمہ کا حوالہ دیتے ہوۓ کہا کہ کسی بات کو بلا تحقیق آگے بڑھانے سے اجتناب کا حکم ہے اوریہی صحافت کی حقیقی بنیاد ھے۔

سیمینار کے آخری حصے میں کچھ نمائندہ سامعین نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ سنتوش کمار، شاہجہاں انور اور ریحان اختر نے سیمینار کے کامیاب انعقاد پر نصیریہ فاؤنڈیشن اور آکسفورڈ انٹرنیشنل اسکول کے ذمہ داران کو مبارک پیش کرتے ہوۓ اس قسم کے پروگرام کے انعقاد کو خوش آئند بتایا۔

پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ سیمینار میں نظامت کا فریضہ آکسفورڈ انٹرنیشنل اسکول کے ڈائریکٹر اور سیمینار کے کنوینر تفہیم الرحمان نے اپنے اچھوتے انداز میں ادا کیا۔

تعارف: hamslive

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*