این آر سی کے خلاف کنہیا کمار کا کشن گنج میں شدید مظاہرہ، مقامی کانگریسی ایم پی کو غصے کا سامنا

کنہیا کمار نے کہا معافی نامہ لکھنے والے لوگ ملک کی آزدی میں اپنی جان قربان کرنے والوں سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگ کر رہے ہیں۔ فیروز عالم نے کہا قانون سے ہوں گے غریب لوگ متاثر، وہیں کانگریس کے ایم پی ڈاکٹر جاوید آزاد کو کرنا پڑا عوام کے غصے کا سامنا

کشن گنج، 20 فروری (یو این آئی) قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنے موقف میں شدت لاتے ہوئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے سابق صدر ڈاکٹر کنہیا کمارنے انگریزوں کو معافی نامہ لکھنے والے لوگ ملک کی آزدی میں جن کے آباو اجداد نے اپنی جان قربان کی ان سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگنے والے پہلے اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت پیش کریں۔

انہوں نے ’جن گن من یاتر ا‘ جو چمپارن سے شروع ہوا ہے کے کشن گنج پہنچنے پر سی ا ے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلا ف کشن گنج کے تاریخی روئی دھاسہ میدان میں احتجاجی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ جن لوگوں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ان سے شہریت کاثبوت طلب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جس طرح ٹرمپ کے ہندوستان دورے کی سلسلے میں گجرات کی جھوپڑیوں کو چھپا نے کے لئے دیوار کھڑی کر رہی ہے ٹھیک اسی طرح آسام میں این آر سی کے غلطی کو چھپا نے کے لئے حکومت سی اے اے کے نام کی ایک دیوار کھڑی کرنا چاہتی ہے جیسے اس ملک کے عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب سرکار رافیل کی فائلوں کی حفاظت نہیں کرسکتی توملک کی عوام اپنے کاغذات کی حفاظت کیسے کریں گے۔ ڈاکٹر کنہیا نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی ناکامیابیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے سی اے اے، این آر سی، این پی آر جیسے موضوع کو سامنے لاکر عوام کو ان کے بنیادی چیزوں سے دھیان ہٹانا چاہتی ہے۔

کنہیا کمار نے امت شاہ کا نام لئے بغیر کہا کہ کوئی گنجا ہونے سے چانکیہ نہیں ہوجاتا۔ تمام وسائل موجودہوں، سی بی آئی، آئی ڈی، انکم ٹیکس وغیرہ جیسی ایجنسیاں ہوں تو کوئی بھی چانکیہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوراقتدار میں ابت ک 3کروڑ 16 لاکھ لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں لیکن حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں، انہوں نے ریلوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قوم پرست حکومت اب قوم کے اثاثہ کوبھی فروخت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سی اے اے کو لے کر کہا کہ اس قانون سے صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ہندوؤں کوبھی نقصان ہونے والا ہے اس لئے اس لڑائی کو ہندو مسلم کے آئینہ سے نہ دیکھا جائے بلکہ یہ لڑائی ملک کے دستو ر کے تحفظ کی لڑائی ہے۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کدوا ایم ایل اے ’جن گن من یاتر ا‘ کے شریک کار ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے قومی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے سب سے زیادہ نقصان کمزور طبقوں کو ہوگا جن میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ انہوں نے اویسی اور اس کی پارٹی پر طنز کرتے ہوئے اشاروں اشاروں میں اویسی کا موازنہ پروین توگڑیا سے کیا۔
سماجی کارکن انجینئر محمد اسلم علیگ نے قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس قانون سے ملک کا سماج بٹ جائے گا اور ہندوستان کی قومی یکجہتی کمزور ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اس سیاہ قانون کے خلاف آج سڑکوں پر صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ دلت، قبائلی، ہندو اور دیگر اقلیتی طبقہ بھی سڑکوں پر ہیں۔ سکھ بھائی اس کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ سی اے اے کے خلاف مظاہروں سے حکومت کو شدید جھٹکا لگا کہ جو اسے ہندو مسلم کا رنگ دینے پر آمادہ تھے۔

اس جن گن من یاترا میں مسٹر کنہیا کمار کے ہمراہ کدو ا کے رکن اسمبلی شکیل احمد کے ہمراہ ممبئی سے ملند جی بھی شریک تھے، این آر سی، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف منعقد و اس احتجاجی پروگرام میں مقامی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر جاوید، بایاں محاذ لیڈر فیروز عالم، سابق ایس ڈی ایم سید حفیظ وغیرہ موجودتھے۔

سی پی آئی لیڈر جناب فیروز عالم اس احتجاجی جلسہ کو منعقد کرانے میں کافی پیش پیش رہے۔ انہوں نے کہا چوں کہ عموما غریب لوگوں کے پاس زمین کا ایک ٹکڑا بھی موجود نہیں ہے اس لئے ایسے لوگوں کو این آر سی کے لئے کوئی زمینی ثبوت دکھانے سے قاصر رہیں گے اور اس پریشانی میں تقریبا ہر طبقہ کے لوگ ہوں گے، اس لئے سی اے اے اور این آر سی کی شدید مخالفت کی جانی چاہئے۔

کشن گنج سے کانگریس پارٹی کے رکن پالیمنٹ ڈاکٹر جاوید آزاد جیسے ہی تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو جلسے میں موجود عوام کے شدید غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے تقریر شروع کرتے ہی لوگوں ‘بیٹھ جاؤ’ کی آواز لگائی۔ بتایا جاتا ہے کی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں میں علاقے میں کانگریس اور ڈاکٹر جاوید آزاد کی سرگرمی تقریبا صفر رہے، جس کی وجہ سے عوام کے درمیان کافی غم و غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہیں اس جلسے میں جہاں بایاں محاذ اور کانگریس دونوں محاذوں سے متعلق افراد موجود تھے وہیں اے آئی ایم آئی ایم سے وابستہ کوئی بھی شخص نظر نہیں آیا، حالانکہ کشن گنج کا موجودہ ایم ایل اے کا تعلق ایم آئی ایم سے ہے۔