حکومت کو شاہین باغ مظاہرین کے سامنے جھکنا ہی ہوگا۔ ایڈووکیٹ بھانو پرتاپ سنگھ

قومی شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مشہور وکیل بھانو پرتاپ سنگھ نے خاتون مظاہرین سے استقلال کے ساتھ قائم رہنے کی اپیل کی

نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مشہور وکیل بھانو پرتاپ سنگھ نے خاتون مظاہرین سے استقلال کے ساتھ قائم رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو شاہین باغ مظاہرین کے سامنے جھکنا ہی ہوگا۔
انہوں نے ڈرے اور خوف زدہ ہوئے بغیر مظاہرہ جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ حکومت مختلف حربے اپنائے گی اور اپنارہی ہے لیکن آپ کو اپنے موقف سے نہیں ہٹنا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت آپ کو بات کے لئے بلائے تو آپ وہاں جانے کے بجائے یہاں آنے کو کہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کی تیاری آپ کے پاس ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آپ کا یہ مظاہرہ کامیابی کی طرف جارہا ہے اس کو کسی حالت میں بھی پٹری سے اترنے نہ دیں۔
دریں اثناء پولیس کی رکاوٹوں کے باوجود خاتون مظاہرین کی حمایت اور اظہار یکجہتی کے لئے پنجاب سے سکھوں کے جتھ کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ بٹالہ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں سے آنے والے سکھوں نے قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ناراضگی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ قانون صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ تمام کمزور طبقوں، دلتوں قبائلیوں کے خلاف ہے اور حکومت صرف تین ملکوں کا نام لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
سکھوں نے کہاکہ ہم یہاں یہ بتانے آئے ہیں کہ پورا سکھ طبقہ شاہین باغ مظاہرین کے ساتھ ہے اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سکھوں کا دستہ مسلسل شاہین باغ آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہر طرح سے شاہین باغ مظاہرین کے ساتھ ہیں اور اس کے خلاف کسی کو کچھ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ پولیس نے ہماری بسوں کو راستے میں روک لیا ہے اور اور بہت سے سکھ ابھی راستے میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن پولیس والے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔
متعدد سکھوں سے قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے بارے میں پوچھے جانے پر کہاکہ یہ قانون مذہبی تفریق پر مبنی اور لوگوں کو بانٹنے والا قانون ہے اور اگر ہم اس کی مخالفت نہیں کی تو اگلی باری ہماری ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اقلیتوں کو تقسیم کرکے انہیں نشانہ بنانا چاہتی ہے اور ہم لوگ حکومت کے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور حکومت کے سامنے جھکے بغیر حکومت کو جھکائیں گے۔انہوں نے کہاکہ سکھوں کی مسلسل آمد اس کا واضح ثبوت ہے۔
ساودھان انڈیا (کرائم) کے سوشانت سنگھ بھی شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے پہنچے۔اس کے علاوہ سمستی پور کے رکن اسمبلی اختر الاسلام اور سنگر اوشا نائر نے بھی شاہین باغ خاتون مظاہرین کے سامنے اظہار خیال کیا۔اس کے علاوہ دیگر اہم لوگوں نے بھی شاہین باغ خاتون مظاہرین سے خطاب کیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گزشتہ چار دنوں کے دوران دو بار فائرنگ کا واقعہ کے باوجود پوری شدت سے احتجاج جاری ہے۔ پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے تلاشی کے ساتھ آنے جانے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ گیٹ نمبر سات پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس بربریت کے بعد سے 15دسمبر سے احتجاج جاری ہے۔ پہلے یہ احتجاج چند گھٹوں کا ہوتا تھا لیکن حکومت پر کوئی اثر نہ پڑنے کی وجہ سے اسے 24 گھنٹے کا کردیا گیا۔ جامعہ مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے،نظام الدین میں خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے یہاں ہر روز اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لئے کچھ نہ کچھ نیا کیا جارہا ہے اور گزشتہ کل سے مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ خوریجی خواتین مظاہرہ سے آج سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سلمان خورشید خطاب اور اظہار یکجہتی کریں گے۔اسی کے ساتھ دہلی میں اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے اور وہاں خواتین نے ایک نیا شاہین باغ بناکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔اسی طرح راجستھان کے کوٹہ، جے پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ وہاں بھی پر دہلی اور اترپردیش پولیس کی طرح خواتین مظاہرین ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن جیسے ہی پولیس کی ہٹانے کی خبر پہنچی تو ہزاروں کی تعداد میں خواتین پہنچ گئیں اور پولیس کو ناکام لوٹنا پڑا۔ یہاں پر بھی اہم لوگوں کا آنا جانا جاری ہے اور مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔رات میں بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا۔ رات کے اخیر پہر میں دھرنا پر بیٹھی خواتین اس وقت دعا اور نماز پڑھ رہی تھیں، پولیس نے پہلے چاروں طرف سے گھیر کر وہاں کھڑے مردوں اور لڑکوں پر لاٹھی ڈنڈا چلایااور پھر پکڑکر لے گئے اور خواتین کو دھرنا ختم کرنے کے لئے کہا۔ اسی کے ساتھ دعوی کیا گیا کہ پولیس اینٹ چلانے لگی جس کی زد میں آنے سے ایک خاتون کے سر میں گہری چوٹ لگی۔ اس کی حالت خراب ہے۔ اس کے علاوہ کئی خاتون زخمی ہوئی ہیں۔ مظاہرہ میں شامل خاتون نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ پولیس نے قریب آکر ہوا میں فائرنگ کی اور لاٹھی برسائی اور گندی گندی گالیاں۔ پولیس نے ساری خواتین کو ہٹادیا ہے یا حراست میں لے لیا ہے، اسی کے ساتھ پولیس نے پارک کو پانی سے بھر دیا ہے۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے لیکن خواتین میں بھی حوصلہ اور استقلال میں کی کمی نہیں ہے۔ ان سب کے باوجود خواتین نے گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ خوف و دہشت قائم کرنے کے لئے سابق گورنر عزیز قریشی سمیت متعدد لوگوں پر ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے، اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، چمپارن، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار‘۔سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،۔مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، چمپارن،مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپالگنج بہار،۔کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔سرکس پارک کلکتہ،۔قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،35۔روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،۔کوٹہ راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔