ملک کے سنگین حالات سے مسلمانوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں: اسدالدین اویسی

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ جناب بیرسٹراسدالدین اویسی نے گزشتہ 4 ستمبر کو شہر ممبئی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ  ملک کے موجودہ سنگین حالات سے مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انہیں ثابت قدم رہ کر ان حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ملک کے سیکولرزم اور جمہوریت کی بقا کے لیے اعتدال پسند قوتوں کو کامیاب بنانا چائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرہم  نے جناح کے دو قومی نظریہ کو خارج کیا ہے توہم بھارت کے پہلے شہری ہیں۔

ممبئی 7 ستمبر (ایچ اے ایم ایس) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ جناب بیرسٹراسدالدین اویسی نے گزشتہ 4 ستمبر کو شہر ممبئی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ  ملک کے موجودہ سنگین حالات سے مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انہیں ثابت قدم رہ کر ان حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ملک کے سیکولرزم اور جمہوریت کی بقا کے لیے اعتدال پسند قوتوں کو کامیاب بنانا چائے۔

جنوبی ممبئی کے بلواس ہوٹل میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ ہمیشہ اپوزیش کے درمیان سمجھوتہ نہ ہونے پر ایم آئی ایم سے سوال کیوں کیاجاتا ہے لیکن دوسری پارٹیوں سب اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا۔ ذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ دوسری پارٹیوں سے بھی وضاحت طلب کرے۔

اویسی نے کے مطابق ونچت اگھاڑی سے سمجھوتہ نہ ہونے کی اصل وجہ نشستوں کی تقسیم پر تال میل نہ ہونا ہے۔ اس سوال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم، کوبی جے پی کی بی ٹیم کہنے والوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہم خود ’اے ٹیم‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ دراصل مہاراشٹرہی نہیں بلکہ ملک میں ایک مضبوط سیاست کی آواز کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے سماج کے کمزور اور دبے کچلوں کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرکاش امبیڈکر کا وہ احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب معاشرے میں مساوات مضبوط ومستحکم ہوں گے تو سب کو جمہوریت میں اپنا حق ملے گا۔ ریاست میں کسانوں کی خودکشی اور وعدوں پر بی جے پی کوئی بات نہیں کرتی ہے جبکہ مہنگائی جی ایس ٹی اور بے روزگاری پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ صرف فرقہ پرستی اور علاقائیت کا رنگ دینے کے لیے این آر سی اور ترمیمی بلوں پر بات کی جاتی ہے تاکہ اکثریت کا منہ بھرا جا سکے۔

اسدالدین اویسی نے واضح کیا کہ ترمیم شدہ شہری بل نافذ کرکے ملک میں غیرقانونی طورپر مقیم ہندوﺅں کو شہریت دینے کی باتیں کی جارہی ہیں جوکہ خطرناک عمل ہے۔ اس سے مسلمانوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور یہ غیرمساوی عمل ہے۔ اگر اس بل کا نفاذ ہوتاہے تو یہ جناح کے دوقومی نظریہ کو فروغ ملے گا۔ دراصل این آر سی کے تعلق سے آسام میں جو فہرست سامنے آئی ہے، اس کی وجہ سے بی جے پی کو تکلیف ہوئی ہے اب ان کے وزرا کہہ رہے ہیں ہم این آر سی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ جناب اویسی صاحب نے ہجومی تشدد سے متعلق کہا کہ پر اس پر مکتوب لکھاجاتا ہے تب ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ گوڈسے کو اگرپہلادہشت گرد قراردیا جائے توبی جے پی کے وزیر گری راج سنگھ کو کیوں تکلیف پہنچتی ہے۔

انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ صرف دعا پر اکتفا نہ کرتے ہوئے میدان عمل اور میدان کارسازمیں آکر جمہوری طریقے سے آگے آئیں اورجمہوریت پر یقین رکھیں اورالیکشن میں حصہ لے کر ووٹوں کا تناسب بڑھائیں۔ ای وی ایم اور وی وی پیڈ کو ملایا جائے۔ امریکہ میں بھی بیلٹ پیپر کا استعمال کرکے ووٹنگ کی جاتی ہے۔ اس پر جب شک ظاہر کیا جارہا ہے تو الیکشن کمیشن کوجواب دینا چاہئے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ مذہب کی بیناد پرکسی کو بھی شہریت نہیں دی جاسکتی ہے۔ بی جے پی مسلمانو ں کے لئے کیا کرتی ہے یہ معلوم ہے اس نے الیکشن میں مسلمانوں کو کتنی نمائندگی دی ہے اس سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر کیا کر رہی ہے۔ اگر ہم  نے جناح کے دو قومی نظریہ کو خارج کیا ہے توہم بھارت کے پہلے شہری ہیں۔ اس موقع پر رکن پارلیمان اور مہاراشٹرایم آئی ایم کے صد ر امیتاز جلیل نے کہا کہ ایم آئی ایم نے 52 امیدواروں کو میدان عمل میں اتارا ہے۔ ہرسماج کے لوگوں کو ہم نے حصہ داری دی ہے اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ایسے مقامات پر امیدوار کھڑے کئے ہیں جہاں پارٹی مستحکم ہے، جنرل سکریٹری شاکر پٹنی اور ممبئی صدر فیاض احمد کے ساتھ حیدرآباد کے ایم ایل اے اے بلالا اور ممبئی کے سابق ایم ایل اے حاجی بشیر موسیٰ پٹیل بھی موجود تھے۔ انہوں نے مہاراشٹراسمبلی انتخابات میں ایم آئی ایم سے اتحاد نہ کیے جانے کے لیے کانگریس سمیت حزب اختلاف کو ذمہ دار قراردیا ہے۔

تعارف: hamslive

ایک تبصرہ

  1. اویسی صاحب کو چاہیے کہ اپنی پارٹی کا نام ایسا رکھیں جسے دلت طبقہ بھی اس سے مانوس ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*